4 فروری 2011 - 20:30

حجت الاسلام والمسلمین اختری نے حجاز کے بزرگ عالم دین آیت اللہ محمد علی العَمری کے ایصال ثواب کے لئے "مسجد اعظم" میں حوزہ علمیہ قم کی جانب سے منعقدہ مجلس فاتحہ سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ العَمری کو وہابی ستم کے خلاف استقامت اور جدوجہد کی علامت قرار دیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیعیان حجاز کے قائد مرحوم علامہ شیخ محمدعلی العَمری کے انتقال کی مناسبت سے قم کے مراجع تقلید، علماء اور طلاب سمیت عوام کے مختلف طبقات کی موجودگی میں قم کی مسجد اعظم میں ایک مجلس فاتحہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مصائب اہل بیت (ع) بیان ہوئے اور نوحہ خوانی ہوئی۔ اور اس کے بعد سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی حجت الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے آیت اللہ العَمری کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام انسانوں کی نجات کے لئے تشریف لائے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (جو صفر المظفر کی اٹھائیسویں تاریخ بروز پیر وصال کرگئے ہیں) کا وصال تمام انسانوں کے لئے نہایت عظیم المیہ اور ناقابل تلافی نقصان تھا یہاں تک کہ سیدہ دو عالم صدیقہ طاہرہ حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا نے اپنے والد ماجد (ص) کے بارے میں فرمایا: آپ (ص) تمام ظلمتوں اور تاریکیوں کے خاتمے اور انسانیت کی آنکھوں سے تیرگیوں صاف کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ (ص) کے وجود ذیجود کی برکتیں قیام قیامت تک جاری و ساری رہیں گی اور ایران میں حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی رحمةاللہ علیہ کی قیادت میں انقلاب اسلامی اور مقدس اسلامی جمہوری نظام کا قیام بھی ان ہی برکتوں کے جاری و ساری ہونے کا عملی نمونہ ہے۔ انھوں نے شیعیان حجاز کے قائد مرحوم آیت اللہ العَمری کے بارے میں کہا: شخصیت تشیع اور اہل بیت (ع) کے دشمنوں کے دباؤ کے مقابلے میں استقامت اور جدوجہد کے حوالے سے مرحوم العَمری کی شخصیت ایک نادر اور بے مثل شخصیت تھی اور میں انہیں استقامت کا نمونہ اور صبر و مزاحمت کی علامت سمجھتا ہوں۔ انھوں نے وہابیت کے گمراہ و منحرف تفکر کے فروغ اور سعودی حکومت میں اس تفکر کے حامل افراد کی موجودگی کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ العَمری کی جدوجہد کو مدینہ سمیت سعودی عرب کے دیگر شہروں کے شیعیان اہل بیت (ع) کی مجموعی صورت حال کی بہتری کا سبب قرار دیا۔انھوں نے کہا: علامہ العَمری سعودی عرب ـ اور خاص طور پر مدینہ کے شیعیان اہل بیت (ع) ـ کے رہبر، مرجع اور حامی تھے جبکہ ساٹھ برسوں سے بھی زائد عرصے سے حکمرانی کرنے والی وہابیت سعودی عوام ـ بالخصوص شیعیان اہل بیت (ع) ـ پر بے پناہ مظالم ڈھا رہی ہے جس نے مرحوم آیت اللہ العَمری کو وہابی اذیتکدوں میں قید کرکے 45 برس جیلوں میں گذارنے پر مجبور کیا اور یہ حقیقت وہابی مظالم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ شیعہ علماء کو علوم آل محمد (ص) کی سرحدوں کے محافظ ہیں اور آیت اللہ العَمری اسی حدیث کا مجسم اور عملی نمونہ تھے جنہوں نے اہل بیت (ع) کے افکار و مکتب کی پاسداری کی۔انھوں نے کہا: آیت اللہ العَمری نے اپنی ذاتی جائیداد اور ذاتی نخلسیتان میں شیعیان مدینہ کے لئے حسینیہ کی بنیاد رکھی اور حسینیہ کی تعمیر کے اخراجات بھی خود ہی برداشت کئے اور اس نخلستان اور حسینیہ کو اہل بیت (ع) کی تعلیمات عام کرنے کے لئے وقف کیا اور انھوں نے تعلیم و تربیت اور قیادت و خدمت کے علاوہ اپنی ذاتی دولت و جائیداد کو بھی سعودی عرب میں مکتب اہل بیت (ع) کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے خرچ کیا۔ جناب اختری نے سعودی عرب میں اس بزرگ عالم دین اور دیگر ممالک کے آمر حکمرانوں اور کے مظالم کے مقابلے میں ان جیسے دیگر بزرگوں کی خدمات و استقامت کو انقلاب اسلامی اور حضرت امام خمینی رحمةاللہ علیہ کے عوامی اور الہی انقلاب کا نتیجہ قرار دیا اور کہا: امام خمینی رحمةاللہ علیہ کا انقلاب حضرت رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے انقلاب سے مشابہت رکھتا تھا جو ظلم، جہل اور تاریکیوں کے خلاف لڑے اور نور و علم اور روشنی کو تحفے کے طور پر انسانیت کو پیش کیا۔انھوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کے ثمرات ابھی تک مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوئے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مصر، تیونس اور اردن میں اٹھنے والی عوامی تحریکیں اسی انقلاب کے ثمرات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ انقلاب اسلامی کے نتیجے میں ہی اسلامی اور عرب ممالک میں عوامی تحریکوں کا آغاز ہوگیا ہے لیکن یہ امر باعث افسوس ہے کہ ان تحریکوں کو امام خمینی رحمةاللہ علیہ کی سی قیادت میسر نہیں ہے چنانچہ ان انقلابوں کی کامیابی اور کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے کا امکان بہت کم ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مسجد اعظم میں آیت اللہ العَمری کے ایصال ثواب کے لئے مجلس فاتحہ قم کے دینی اداروں اور حوزہ علمیہ قم سے وابستہ اداروں ـ جیسے حضرت سیدہ فاطمہ معصومہ (ص) کے آستانہ مقدسہ، جامعۂ مدرسین حوزہ علمیہ قم، مرکز مدیریت حوزہ علمیۂ قم، جامعةالمصطفی العالمیة اور دفتر تبلیغات اسلامی ـ کی جانب سے منعقد ہوئی اور «آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی»، « آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی»، « آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی»، قم میں رہبر انقلاب اسلامی کے سربراہ «حجت الاسلام والمسلمین ملکا»، «آیت‏اللہ العظمی مکارم شیرازی» کے نمائندے اور حوزہ علمیہ قم کے سیکریٹری «آیت‏اللہ یزدی»، «آیت اللہ سید جعفر کریمی»، «آیت اللہ مقتدائی»، دفتر تبلیغات کے سربراہ «حجت الاسلام ربانی»، صوبۂ قم کے گورنر جنرل، «حجت‏الاسلام موسی‏پور» اور خلیج فارس کے خطے کی عرب ریاستوں کے بعض نمائندوں نے شرکت کی۔ .............................. /110